Quran Home

BackThe Thunder - Ar-Ra'd

>


سورة الرعد
اور جو لوگ عہدُ خدا کو توڑ دیتے ہیں اور جن سے تعلقات کا حکم دیا گیا ہے اان سے قطع تعلقات کرلیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کے لئے لعنت اور بدترین گھر ہے
اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو وسیع یا تنگ کردیتا ہے اور یہ لوگ صرف زندگانی دنیا پر خوش ہوگئے ہیں حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں زندگانی دنیا صرف ایک وقتی لذّت کا درجہ رکھتی ہے اور بس
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ان کے اوپر ہماری پسند کی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی تو پیغمبر کہہ دیجئے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں انہیں ہدایت دے دیتا ہے
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دُلوں کو یادُ خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان یادُ خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بہترین جگہ (بہشت)اور بہترین بازگشت ہے
اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی قوم کے درمیان بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیِ ہیں تاکہ آپ ان چیزوں کی تلاوت کریں جنہیں ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل کیا ہے حالانکہ وہ لوگ رحمان کا انکار کرنے والے ہیں آپ ان سے کہئے کہ وہ میرا رب ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہو جس سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے چلایا جاسکے یا زمین طے کی جاسکے یا لَردوں سے کلام کیا جاسکے -تو وہ یہی قرآن ہے- بلکہ تمام امور اللہ کے لئے ہیں تو کیا ایمان والوں پر واضح نہیں ہوا کہ اگر خدا جبرا چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں پر ان کے کرتوت کی بنا پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی مصیبت پڑتی رہے گی یا ان کے دیار کے آس پاس مصیبت آتی رہے گی یہاں تک کہ وعدہ الٰہی کا وقت آجائے کہ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے
پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے تو ہم نے کافروں کو تھوڑی دیر کی مہلت دیدی اور اس کے بعد اپنی گرفت میں لے لیا تو کیسا سخت عذاب ہوا